عالمی بینک کے اشتراک سے عوام کو 7 ہزار میں سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ

سندھ حکومت کا عالمی بینک کے اشتراک سے عوام کو 7 ہزار میں سولر سسٹم فراہم کرنے کا فیصلہ

عالمی بینک کے اشتراک سے منصوبے کے تحت سندھ بھر میں2 لاکھ گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کیا جائے گاجن میں کراچی کے 50ہزار گھرانے بھی شامل ہیں

کراچی(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔28 مئی 2024 ) سندھ حکومت نے عالمی بینک کے اشتراک سے 7 ہزار روپے کے عوض مکمل سولر سسٹم عوام کو فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا،منصوبے کے تحت سندھ بھر میں2 لاکھ گھرانوں کو سولر سسٹم فراہم کیا جائے گاجن میں کراچی کے 50ہزار گھرانے بھی شامل ہیں، عالمی بینک کے اشتراک سے مجوزہ فراہم کردہ سولر سسٹم سے ایک پنکھا اور 3 ایل ای ڈی بلب جلائے جاسکیں گے۔

منصوبے کا آغاز رواں سال اکتوبر سے متوقع ہے۔ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی کے مطابق سولرسسٹم میں سولر پینلز، چارج کنٹرولر اور بیٹری بھی شامل ہے۔ جیسے ہی خریداری ہوجائے گی تو اکتوبر میں تقسیم شروع ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے ہر ضلع میں 6 ہزار 656 سولر سسٹم دیئے جائیں گے۔ منصوبے کیلئے ورلڈبینک نے 3 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جاری کئے ہیں۔

دریں اثناءمیئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے شہر کی 3 بڑی اہم شاہراہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہری حکومت کی جانب سے 3 اہم شاہراہوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کر کے اس کا ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیاہے۔ کے یم سی نے ورلڈبینک کے تعاون سے ایک ارب روپے کے منصوبے کا ٹینڈر جاری کیا ہے۔اس حوالے سے میئرکراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ شمسی توانائی پر شارع فیصل، میرین ڈرائیو روڈ کو منتقل کیا جائےگاجبکہ شاہراہ ایران،شاہراہ فردوس کی بھی شمسی توانائی پر منتقلی کی جائیگی۔ان کا کہنا ہے کہ پائلٹ پروجیکٹ کے بعد 103 مزید شاہراہوں کو سولر سسٹم پر منتقل کریں گے اور بجلی کی بچت سے جو فنڈ موجود ہو گا اس سے ترقیاتی کام کروائیں گے۔میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی ہیڈآفس کی بھی سولرسسٹم پر منتقلی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *