Wed. Apr 17th, 2024

امریکی سفیر جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں

یقینی بنائیں کہ وہ اپنی غیر منصفانہ قید کی داستان بیان کرنے کیلئے زندہ رہیں، امریکی رکن کانگریس بریڈ شرمین کی ڈونلڈ لو کو ہدایت

واشنگٹن (   ۔ 20 مارچ 2024ء) سینئر رکن امریکی کانگریس کی امریکی سفیر کو عمران خان سے جیل میں ملاقات کرنے کی ہدایت۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کے روز امریکی نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو کی امریکی ایوان نمائندگان کی محکمہ خارجہ کی کمیٹی کو دی گئی بریفنگ کے دوران سینئر امریکی رکن کانگریس بریڈ شیرمین نے ڈونلڈ لو کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ پہلے بلے پر اور پھر بلے باز پر پابندی لگا دی گئی، کیا عمران خان کو یک طرفہ عدالتی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا؟۔

ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ عمران خان کی گرفتاری اور نو مئی کے مظاہروں کے بعد سے امریکہ نے بڑے پیمانے پر پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن کے رہنماؤں کی گرفتاریوں پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ہم نے فوجی عدالتوں کے استعمال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس پر امریکی سینئر رکن کانگریس بریڈ شیرمین کہا کہ آپ کو ایک کام کرنے کی ضرورت ہے کہ امریکی سفیر جیل میں عمران خان سے ملاقات کریں، یقینی بنائیں کہ وہ اپنی غیر منصفانہ قید کی داستان بیان کرنے کیلئے زندہ رہیں۔

بریفنگ کے دوران امریکی نائب وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے 8 فروری کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے اہم بیان دیا۔

بریفنگ کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان کے حالیہ انتخابات صاف اور شفاف تھے؟ اس پر ڈونلڈ لو کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان کے حالیہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ تھے، ہم متعدد مرتبہ انتخابات سے متعلق سنجیدہ تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔

پاکستان کے الیکشن کمیشن کو متنازعہ نتائج والے حلقوں میں دوبارہ الیکشن کروانے چاہیں، اگر الیکشن سے متعلق بے ضابطگیوں کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو پاک امریکا تعلقات پر اثر پڑے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کے خاتمے میں امریکی کردار کے الزام سے متعلق سوال پر ڈونلڈ لو نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے الزامات رد کر دیے۔ اس دوران ایوان میں “جھوٹ، جھوٹ” کے نعرے لگ گئے جس پر سیکیورٹی نے شور مچانے والے افراد کو ایوان سے نکال دیا۔

جبکہ بریفنگ کا مشاہدہ کرنے والے چند افراد نے عمران خان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔ شرکاء نے نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ “عمران خان کو رہا کرو، عمران خان جمہوری طور پر منتخب ہونا والا پاکستان کا پہلا وزیر اعظم ہے، صرف وہی پاکستان کو بچا سکتا ہے”۔

بعد ازاں ڈونلڈ لو نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کی حکومت کو ہٹانے میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا، پاکستانی سفیر اسد مجید تصدیق کرچکے کہ سائفر کا الزام بالکل جھوٹ تھا، عمران خان کی حکومت کو ہٹانے میں ان کا یا ان کے محکمے کا کوئی کردار نہیں تھا، سائفر کو امریکی سازش کہنے کا عمران خان کا الزام سراسر جھوٹ ہے۔ڈونلڈ لو نے مزید سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 31سال پہلے پشاور میں ایک جونیئر آفیسر تھا، تب پاکستان میں انتخابات کے عمل کو قریب سے بھی دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے اگلے روز محکمہ خارجہ نے ایک واضح بیان جاری کیا۔الیکشن میں آزادانہ غیرضروری پابندیوں کو نوٹ کیا گیا۔الیکشن مہم کے دوران تشدد اور میڈیا ورکرز پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، امریکا کی جانب سے انتخابات میں تشدد اور انسانی حقوق پر پابندیوں کی بھی مذمت کی گئی، میڈیا ورکرز پر حملوں، انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن کی بندش کی بھی مذمت کی گئی۔پاکستان میں دہشتگردوں نے سیاسی رہنماؤں اور اجتماعات کو نشانہ بنایا،انتخابات سے پہلے پولیس، سیاستدانوں اور سیاسی اجتماعات پر حملے بھی رہے، انتخابی دھاندلیوں، تشدد اور دھمکیوں کے باوجود ووٹرز باہر نکلے، تشدد کی دھمکیوں کے باوجود 60 ملین سے زیادہ پاکستانیوں سے ووٹ ڈالا، ووٹ ڈالنے والوں میں 21ملین خواتین بھی شامل ہیں، ووٹرز نے 2018کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ خواتین کو ارکان پارلیمنٹ منتخب کیا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *