Sat. Apr 20th, 2024

اسلام آباد( ۔15 مارچ2024 ء) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) اور حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری پر پلان طلب کر لیا،پاکستان اور آئی ایم ایف جائزہ مشن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوگیا جس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کو پی آئی اے کی نجکاری کیلئے بینکوں اور حکومت کے درمیان قرض ٹرم شیٹ پر بریفنگ دی جائے گی۔
پی آئی اے کی نجکاری کیلئے کمرشل بینکوں سے 12 فیصد تک شرح سود پر ٹرم شیٹ ایگریمنٹ ہو گا، کمرشل بینکوں سے قرض ٹرم شیٹ معاہدہ طے پانے پر بینکوں سے این او سی ملے گا۔کمرشل بینکوں کے ساتھ قرض ٹرم شیٹ معاہدہ طے پائے جانے پر بینکوں سے این او سی ملے گا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس آمدنی کا پلان آئی ایم ایف کوپیش کر دیا۔

پاکستان نے آئی ایم ایف کو ایف بی آرمیں اصلاحات سے آگاہ کر دیا، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر محصولات کو بڑھایا جا رہا ہے

اس حوالے سے ڈومیسٹنگ فنانسنگ کا کہنا ہے کہ کمرشل بینکوں کیساتھ قرض ٹرم شیٹ معاہدہ طے پائے جانے پر بینکوں سے این او سی ملے گا، حکومتی گارنٹیز سمیت ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر کے اخراجات پر بریفنگ دی جائے گی، ٹیکس پالیسی، ایڈمنسٹریشن اور ریونیو پر ایف بی آر کے وفد کیساتھ مذاکرات ہوں گے۔ٹیکس پالیسی، ایڈمنسٹریشن اور ریونیو پر ایف بی آر کے وفد کے ساتھ مذاکرات ہوں گے جبکہ توانائی شعبے کے گردشی قرض اور پاور پرچیز ایگریمنٹ پر وزارت توانائی حکام مذاکرات کریں گے۔
توانائی شعبے کے گردشی قرض اور پاور پرچیز ایگریمنٹ پر وزارت توانائی حکام مذاکرات کریں گے ،توانائی شعبے کا گردشی قرضہ کم، ایڈجسٹمنٹس بروقت اور ٹیرف بڑھانے کیلئے بات چیت ہو گی۔آئی ایم ایف کو رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے اقدامات سےآگاہ کیا گیا، ایف بی آرکو ری اسٹرکچر اور اسٹرکچرل تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔ آئی ایم ایف وفد توانائی سیکٹر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔
مالیاتی خسارہ کنٹرول کرنے اور آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے سٹریٹیجی پر بھی بات چیت ہو گی، توانائی سیکٹر کی کارکردگی سے آئی ایم ایف وفد مطمئن نہیں ہے۔مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر آئی ایم ایف نے نئے پروگرام کے لیے حکومت سے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو بجلی اور گیس کے گردشی قرض منجمد رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *