Wed. Apr 24th, 2024
اسلام آباد (۔ 03 مارچ 2024ء ) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جیسے الیکشن ہوئے ہیں اس سے سارا نظام مشکوک ہوگیا، اگر الیکشن کمیشن ناکام ہوگیا تھا تو چیف جسٹس کی ذمہ داری تھی۔ پبلک نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ایوان کا مستقبل قابل رشک نہیں ہوگا، جیسے الیکشن ہوئے ہیں اس سے سارا نظام مشکوک ہوگیا ہے، میں نے مجموعی طور پر کہا کہ الیکشن میں گڑبڑ ہوئی ہے، اگر الیکشن کمیشن ناکام ہوگیا تھا تو چیف جسٹس صاحب کی ذمہ داری تھی کیوں کہ اگر آپ ووٹ کے تقاضے پورے نہیں کریں گے تو حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے، جو الیکشن ہوئے ہیں انہوں نے سارے نظام کو مفلوج بنادیا مجھے یہ نظام چلتا نظر نہیں آتا، حکومت کو ایسے اتحادی ملے ہیں جو خود کو اتحادی ہی نہیں کہتے۔

شاہد خاقان عباسی کہتے ہیں کہ میری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نہ دوستی ہے نہ ناراضگی، میں دور رہتا ہوں، اسٹیبلشمنٹ اپنے آئینی رول کے اندر رہے گی تو ملک چلے گا ورنہ خرابیاں پیدا ہوں گی، اگر اسٹیبلشمنٹ بڑا رول چاہتی ہے تو آئین کو درست کرلیں، ایک سال پہلے ایک پولیس والا آیا اس نے اعتراف کیا کہ میں آپ کا مجرم ہوں، مجھے بھیجا گیا تھا اور ہم نے 36 ہزار ووٹوں کی گڑبڑ کی اور مجھے ہروایا گیا۔
علاوہ ازیں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو کرپٹ کرپٹ کہنا چھوڑنا ہوگا، نئی سیاسی جماعت بنا رہے ہیں، عوام کے مسائل کے حل کیلئے کوئی بات نہیں ہورہی، موجودہ انتخابی مہم میں بھی پاکستان کے مسائل پر کوئی بات نہیں کی گئی، سیاسی جماعتیں ملکی مسائل پر بات نہیں کررہیں، ایک دوسرے کو کرپٹ کہنا چھوڑنا ہوگا۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *