Sun. Apr 21st, 2024
اسلام آباد (  ۔ 03 مارچ 2024ء ) پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا فیصلہ کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمر ایوب خان کو قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، عمرایوب وزیراعظم کے انتخاب میں بھی پارٹی کے امیدوار تھے اور وہ تحریک انصاف کے مرکزی جنرل سیکرٹری بھی ہیں، تاہم آج قومی اسمبلی اجلاس میں سرکاری ٹی وی نے عمر ایوب کی تقریر کے دوران نشریات بند کردی تھی۔
بتایا جارہا ہے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کے بعد سپیکر ایاز صادق نے وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے والے مخالف امیدوار عمر ایوب کو خطاب کی دعوت دی تو سرکاری ٹی وی نے ان کی تقریر شروع ہوتے ہی نشریات بند کردی

اس موقع پر عمر ایوب نے کہا کہ اللہ کا شکر گزار ہوں وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑنے کا موقع دیا، اللہ تعالیٰ کے بعد عمران خان کا شکر گزار ہوں، ہمارے مخالفوں کے پاس چوری کیا ہوا مینڈیٹ ہے ان کے چہروں سے ڈر، خوف اور شرمندگی نظر آئے گی، یہاں جو لوگ بیٹھے ہیں ان کے چہرے مرجھائے ہوئے ہیں، ان کے چہرے ایسے ہیں جیسے کسی جنازے میں آئے ہوئے ہیں، انہیں معلوم ہے ان کے پاس جو مینڈیٹ ہے وہ چوری شدہ ہے، پی ٹی آئی نے فارم 47 کے خلاف پرامن مظاہرے کیے اور لاہور میں 80 کے قریب کارکنان کو گرفتار کیا گیا، میں حقائق کے ساتھ باتیں سامنے رکھوں گا۔

 

انہوں نے کہا کہ ہماری خواتین بچوں کو ہراساں کیا ہم کھڑے رہے، ہم پر گولیاں چلائیں گئیں مگر ہم کھڑے رہے، ہم کھڑے تھے اور کھڑے رہیں گے، 9 مئی واقعات کی ایک آزادانہ انکوائری ہونی چاہیئے، جن لوگوں نے اپنی جوانی قربان کردی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ میرے لیڈر عمران خان بحیثیت سیاسی قیدی پابند سلاسل ہیں، صحافی ارشد شریف کی کیا غلطی تھی اس کے قتل کا حساب کون دے گا؟ ایک پھول جیسا شخص ظل شاہ زمان پارک میں ڈیوٹی دیتا تھا اس کو ناحق قتل کیا گیا، بشریٰ بی بی کو یرغمال رکھا ہوا ہے تاکہ عمران خان پر دباؤ بڑھے۔

By admin

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *