مسواک بیچتا ہوں، اللہ کے گھر جانے کی بچپن سے آرزو تھی

مسواک بیچتا ہوں، اللہ کے گھر جانے کی بچپن سے آرزو تھی غریب بزرگ اچانک عمرہ پر کیسے چلے گئے؟

“بچپن سے ایک ہی خواہش تھی کہ مکہ، مدینہ دیکھ سکوں. پیسے جمع کرنے کی کوشش کرتا تھا لیکن نہیں ہوپاتے تھے. اللہ نے خواہش دیکھ کر بلا لیا”

یہ کہنا ہے 92 سالہ رحمان بابا کا جو اس بڑھاپے میں بھی پیٹ پالنے کے لئے مسواک بیچ کر گزارا کرتے ہیں. بابا مسواک بیچنے کے لئے روزانہ 30 سے 35 کلو میٹر چلتے ہیں. اتنی تنگ دستی کے باوجود ان کے دل میں دنیا کی لالچ نہیں بلکہ مکہ مدینہ جانے کی خواہش تھی جو ایک نیک دل شخص کے توسط سے اللہ نے پوری کردی اور اب رحمان بابا بہت جلد عمرہ پر جارہے ہیں.

ایک انٹرویو میں رحمان بابا نے بتایا کہ وہ خانہ کعبہ جا کر رو پڑیں گے اور دعائیں مانگیں گے. ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ کبھی واپس نہ آئیں بلکہ اللہ کے گھر کے نزدیک ہی ان کی قبر ہو.

بابا نے بتایا کہ ان کے پاس لے جانے کے لئے چند جوڑے کپڑے، 2 چپلیں اور چھوٹے پوتے کے لئے آدھا کلو مونگ پھلیاں ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *