لاکھوں کے شتر مرغ کہاں سے آتے ہیں.

لاکھوں کے شتر مرغ کہاں سے آتے ہیں.. کہیں میمز کی بھرمار تو کہیں جے ڈی سی کا بائیکاٹ! ظفر عباس نے کڑے سوال کے کیا جواب دیے؟ “میں روز گھر سے یہ سوچ کر نکلتا ہوں کہ آخری بار بچوں کا چہرہ دیکھ رہا ہوں ہوسکتا ہے شام کو یہ میرا منہ کسی مردہ خانے میں دیکھیں. مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں. کیا شتر مرغ کھلانا اتنا بڑا گناہ ہے؟” یہ کہنا ہے معروف سماجی کارکن ظفر عباس کا جو ہر سال سحر و افطار کا بڑے پیمانے پر اہتمام کرتے ہیں. اس دسترخوان کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں امیر غریب سب ساتھ بیٹھتے ہیں اور ہر ایک کو اچھے سے اچھا کھانا پیش کیا جاتا ہے.

 

حال ہی میں جے ڈی سی فاؤنڈیشن کی جانب سے افطار میں شتر مرغ کا گوشت کھلایا گیا جس پر سوشل میڈیا میں خوب تنقید کی گئی یہاں تک کے بائیکاٹ کے ٹرینڈز اور میمز بھی چلائے گئے. اس حوالے سے مختلف انٹرویوز میں ظفر عباس نے کھل کر سوالوں کے جواب دیے.

ظفر عباس کا کہنا ہے کہ “سیٹھ لوگ مجھے فون کر کے کہتے ہیں کہ پیسے لو اور غریبوں کو شتر مرغ کھلاؤ تو کیا میں ان کو انکار کردوں؟ دوسری بات کے ہم کھلا رہے شتر مرغ کا گوشت تو آپ کو کیا تکلیف ہے”

گزشتہ برس مہنگے کیلوں کا بائیکاٹ کر کے شتر مرغ کا گوشت کھلانے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ظفر عباس کا کہنا تھا کہ وہ بائیکاٹ کیلا بیچنے والے کے خلاف نہیں بلکہ ٹھیلے کے سیٹھ کے خلاف تھا. غریب آدمی مہنگے کیلے نہیں خرید سکتا لیکن ہمیں تو سیٹھ خود شتر مرغ کے پیسے دے رہا ہے. جے ڈی سی نے سیلاب زدگان کی مدد کے لئے کام کیا، اسپتال بنوائے، لیبس بنوائیں، ڈائیلاسز سینٹرز بنوائے تو اب میں زندہ رہوں یا نہ رہوں میرا فلاحی کام چلتا رہے گا.

اپنے آگے کے پلان سے آگاہ کرتے ہوئے ظفر عباس کا کہنا تھا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے اور آگے بھی مہنگے کھانے کھلاتے رہیں گے. یہاں تک کہ کروڑوں کے شتر مرغ بھی کھلائیں گے اور جسے تکلیف ہے وہ یہ سب نہ دیکھے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *