جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے متعلق تحریک انصاف نے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا. یورپی یونین مشن کی تردید یورپی یونین کو کوئی خط نہیں لکھا گیا وزیر اطلاعات کے الزامات کو جھوٹ، الزام تراشی اور بیہودگی پر مبنی ہیں.ترجمان تحریک انصاف

اسلام آباد(اانٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 مارچ۔2024 ) پاکستان میں قائم یورپی یونین مشن نے تردید کی ہے کہ پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے متعلق تحریک انصاف نے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں کیا یورپی یونین کے وفد کے پریس آفیسر ثمر سعید اختر نے یورپی یونین کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی کی جانب سے جی ایس پی پلس کے حوالے سے کوئی باضابطہ پیغام موصول نہیں ہوا. واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں صحافیوںسے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا تھا پی ٹی آئی کی جانب سے یورپی یونین سے رابطہ کرکے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کا ”جی ایس پی پلس“ کا درجہ واپس لیں، جھوٹی مہم کے ذریعے معیشت داﺅپر لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں بعدازاں تحریک انصاف کے ترجمان نے عطا اللہ تارڑکی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جماعت کی طرف سے یورپی یونین کو کوئی خط نہیں لکھا گیا وزیر اطلاعات کے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں.
ترجمان تحریک انصاف نے الزامات کو جھوٹ، الزام تراشی اور بیہودگی قراردیتے ہوئے کہا تھا مینڈیٹ چرا کر ملک پر قابض ہونے والے حب الوطنی کا درس دے رہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی طرف سے یورپی یونین کو نہ کوئی خط لکھا گیا ہے اور نہ ہی خط لکھنے کا کوئی ارادہ ہے. انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے تجربہ کار وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی نااہلی اور ہٹ دھرمی آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں تاخیر کا سبب بنی جس کی گواہی ان کے اپنے وزرا دے چکے ہیں، عمران خان اور تحریک انصاف کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی دوسری قسط جاری کی گئی.
انہوں نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) پارٹ ٹو کے تمام تجربہ کار وزرا کا مقصد قومی فلاح نہیں بلکہ قومی خزانے سے اپنی تجوریاں بھرنا ہے، جعلی فارم 47 کی سرکار گھسی پٹی سیاست کی روایت ترک کر کے اپنی مختصر حکومت کا محور ملک و قوم کی فلاح و خوشحالی کو بنائیں تو ان کے لیے بہتر ہو گا. یاد رہے کہ پاکستان کو 2014 سے جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل ہے جوکہ یورپی یونین کی جانب سے تیار کردہ ایک پروگرام ہے جس کے تحت ترقی پذیر ممالک کو یورپی مارکیٹ میں تجارتی مراعات اور برآمدات پر کم ٹیرف کے ذریعے انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور گڈ گورننس کے فروغ کی ترغیب دی جاتی ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *