جیب خرچ کی کیا ضرورت ہے میں تم کو سب دلاتا تو ہوں.. مرد اپنی بیویوں کو جیب خرچ دینے سے کیوں کتراتے ہیں؟ وہ برائی جس سے کئی گھر ٹوٹ گئے

“الگ سے جیب خرچ کی تم کو کیا ضرورت ہے جب کہ گھر میں ضرورت کی ہر چیز موجود ہے، تم کیا کروگی پیسوں کا؟ میرے پاس تمھارے فالتو کے خرچوں کے لئے پیسے نہیں ہیں”

یہ چند ایسے دل دکھانے والے جملے ہیں جو اکثر شوہر حضرات بیویوں کے پاکٹ منی مانگنے پر ادا کرتے ہیں۔ شوہروں کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ ہر مہینے راشن ڈلواتے ہیں اور بیوی کی گھریلو ضرورت کا خیال کرتے ہیں تو اسے الگ سے پیسوں کی کیا ضرورت ہے؟

 

 

ضرورت پوری کرنے کے لئے بیوی لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوجاتی ہے

جبکہ بیوی جو بیچاری شوہر اور بچوں کے علاوہ گھر کی تمام ذمہ داریاں بغیر ماتھے پر بل لائے دن رات ادا کرتی ہے وہ یہ باتیں سن کر خاموش ہوجاتی ہے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کبھی باپ کبھی بھائی کبھی بہن تو کبھی سہیلیوں کا در کھٹکھٹاتی ہے۔ وہ بھی یہی سوچتے ہیں یہ کیسا شخص ہے جو اپنی بیوی کو چند روپوں کے لئے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کررہا ہے۔

لڑائی جھگڑا اور پھر طلاق

کچھ بیویاں اس صورت حال سے تنگ آ کر باقاعدہ لڑنے لگتی ہیں اور نوبت طلاق تک بھی جا پہنچتی ہے۔ کیا ان تمام مسائل سے بچنے کے لئے بہتر نہیں کہ بیوی کو بھی انسان سمجھا جائے اور اسے کچھ رقم ذاتی خرچے کے لیے الگ سے دی جائے؟ یہ سوچیے کہ سب سے پہلے آپ کی بیوی ایک انسان ہے کس کی کچھ ذاتی خواہشات بھی ہوسکتی ہیں۔ کبھی اسے کچھ کھانے کا دل کرے تو کیا آپ کی غیرت یہ گوارا کرے گی کہ آپ کی بیوی کسی سے مانگنے پر مجبور ہوجائے؟

بن مانگے جیب خرچ دینا شوہر کی ذمہ داری ہے

ان تمام مسائل سے بچنے کا حل یہ ہے کہ بیوی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ رقم اسے جیب خرچ کے طور پر بن مانگے دے دی جائے۔ اس سے بیوی بھی خوش رہے گی اور اس کی نظر میں آپ کی قدر و منزلت میں اضافہ ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *